گلوبل (عرب ممالک) - 07 مئی 2026
سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے درمیان بڑھتے ہوئے تنازعات؛ حقیقت کیا ہے؟ متحدہ عرب امارات کا اوپیک سے نکلنے کا اعلان عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں پر کیسے اثر انداز ہوسکتا ہے؛ آئیے جانتے ہیں۔
ایران اور امریکہ کی جنگ شروع ہونے سے لے کر اب تک سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے درمیان معاملات بگڑتے جارہے ہیں، تنازعات بڑھتے جارہے ہیں۔ جب سے متحدہ عرب امارات نے اوپیک سے علیحدہ ہونے کا اعلان کیا ہے، تب سے لے کر تیل کی عالمی منڈیوں میں ہلچل مچی ہوئی ہے کہ جلد تیل کی قیمتیں گرنے والی ہیں۔ اس کی کیا حقیقت ہے، آئیے جانتے ہیں۔
اوپیک تنظیم/گروپ کیا ہے؟
اوپیک دنیا بھر کے ان ممالک کا گروپ تنظیم ہے جو بڑی مقدار میں تیل نکالتے ہیں اور دنیا بھر میں برآمد کرتے ہیں۔ اس میں سر فہرست ممالک سعودی عرب، یو اے ای، کویت، عراق، وینزویلا، و دیگر شامل ہیں۔ اس اوپیک تنظیم کا سربراہ ملک سعودی عرب ہے جو اس چیز پر گرفت رکھتا ہے کہ کونسا ملک ماہانہ یا سالانہ کتنا تیل اپنے ذخائر سے نکالے اور بیچے۔ تاکہ عالمی تیل کی منڈیوں میں قیمتیں مستحکم رہ سکیں۔
گزشتہ کافی عرصے سے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے درمیان یہ تنازعہ دیکھنے میں آرہا تھا کہ یو اے ای اپنی تیل کی پیداوار بڑھانا چاہتا تھا اور اپنے ذخائر سے زیادہ سے زیادہ تیل نکال کر برآمد کرنا چاہتا تھا، تاکہ ملکی معیشت میں اِضافہ کرسکے۔ لیکن سعودی عرب کی طرف سے اسے رکاوٹ کا سامنا تھا کیونکہ سعودی عرب اوپیک کا سربراہ ملک تھا اور عالمی تیل کی منڈیوں میں قیمتیں مستحکم رکھنے کا ذمہ دار تھا۔ جبکہ دوسری طرف یو اے ای اپنے زیادہ سے زیادہ ذخائر سے تیل نکال کر بیچنا چاہتا تھا تاکہ ملکی معیشت کو مستحکم کرسکے۔ لیکن اوپیک تنظیم میں ہونے کے باعث اس کے قوانین کا احترام لازم تھا، اس باعث ایسا نہ کر پارہا تھا۔
ایران امریکہ جنگ کے دوران متحدہ عرب امارات نے اوپیک سے علیحدگی کا اعلان کیوں کیا؟
ایران اور امریکہ کے درمیان خانہ جنگی کے ماحول میں عرب ممالک میں سب سے زیادہ نقصان اٹھانے والا ملک یو اے ای ہے۔ چونکہ عرب امارات میں امریکہ کے کافی تعداد میں دفاعی اڈے موجود ہیں، اس لیے ایران یکے بعد دیگرے مسلسل یو اے ای پر میزائل مار رہا ہے۔ جس کے باعث یو اے ای کو کافی بھاری معاشی نقصان کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، جس کا اثر اس کی معیشت پر پڑ رہا ہے۔
ایسی صورتحال میں جب یو اے ای نے دوبارہ سعودی عرب قیادت سے اس بات کا اظہار کیا کہ ہم اپنی تیل کی پروڈکشن زیادہ کرنا چاہتے ہیں تاکہ موجودگی معاشی تنگی سے نمٹ سکیں۔ لیکن جواباً سعودی عرب کی طرف سے کوئی خاطر خواہ جواب نہ دیا گیا اور اسی بات پر زور دیا گیا کہ طے شدہ مقدار سے بڑھ کر تیل کی برآمدگی نہ کی جائے۔
اس باعث سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے درمیان تلخی و تنازعات بڑھے۔ اور بالآخر آکر متحدہ عرب امارات نے اوپیک تنظیم سے علیحدگی کا اعلان کردیا۔ تاکہ اوپیک قوانین سے بالاتر ہوکر جتنا چاہے اتنا تیل نکالے اور بیچ سکے۔
متحدہ عرب امارات کے اس فیصلے کے بعد سعودی عرب قیادت نے یو اے ای سے کافی برہمی کا اظہار کیا اور انھیں مستقبل میں درپیش آنے والی مشکلات سے آگاہ کیا۔ جس کے نتیجے میں یو اے ای نے اپنے فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے اوپیک سے علیحدگی اور سعودی عرب سے سفارتی تعلقات محدود کرنے کا اعلان کردیا۔
کہا جارہا ہے کہ یو اے ای کی اوپیک سے علیحدگی اوپیک تنظیم کو کمزور کرسکتی ہے اور مستقبل قریب میں یو اے ای کے اتحادی ممالک بھی اس تنظیم سے علیحدہ ہوسکتے ہیں۔ اور اس کا سراسر نقصان سعودی عرب کو ہوگا جو اوپیک کا سربراہ ملک ہے۔
اس سے پہلے بھی قطر اور انڈونیشیا نے اوپیک سے علیحدگی اختیار کی تھی لیکن ان کی علیحدگی اختیار کرنے سے اوپیک تنظیم پر زیادہ اثر نہ پڑا۔ لیکن یو اے ای دنیا میں تیل کے ایکسپورٹرز میں بڑا نام مانا جاتا ہے، جس کے باعث اوپیک تنظیم کو کافی بھاری نقصان کا خدشہ ہے۔
کیا متحدہ عرب امارات کی اوپیک سے علیحدگی عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں گرا دے گی؟
ماہرین کے مطابق، چونکہ اب یو اے ای اوپیک کی پابندیوں سے آزاد ہوچکا ہے اور جتنا چاہے اپنے ذخائر سے تیل نکال کر برآمد کرسکتا ہے۔ اس لیے مستقبل قریب میں عالمی منڈیوں میں تیل کی سپلائی بڑھنے سے تیل کی قیمتوں میں خاطر خواہ کمی دیکھنے کو مل سکتی ہے۔


Post a Comment