امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کا بڑی امریکی کمپنیوں کے سی ای اوز کے ہمراہ وفد کی صورت میں جلد چین کا دورہ متوقع۔ چین میں امریکی صدر کے بھرپور استقبال کی تیاریاں زور و شور سے جاری۔ چین کی طرف سے امریکی صدر کے دورے کی تصدیق کردی گئی۔
تفصیلات کے مطابق وائٹ ہاؤس کی طرف سے آفیشلی اعلان کیا ہے کہ جلد امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ جمہوریہ چین کا دورہ کریں گے۔ اس دورے میں ان کے ساتھ بڑی انٹرنیشنل کمپنیوں کے مالکان و سی ای اوز بھی ہمراہ ہونگے۔ اس زمرے میں وائٹ ہاؤس آفیشلز کی طرف سے باقاعدہ نوٹیفکیشن اور پریس ریلیز بھی جاری کردی ہے۔
دورہ چین کے دوران ٹرمپ کے ہمراہ درج ذیل سر فہرست کاروباری شخصیات موجود ہونگی؛
ایپل کمپنی کے سی ای او - ٹم کاک
سپیس ایکس اور ٹیسلا کمپنی کے مالک - ایلن مسک۔
بلیک راک کمپنی کے سی ای او - لیری فنک۔
اس کے علاوہ ان کے ساتھ میٹا کمپنی، ویزا کارڈ، و دیگر کمپنیوں کے سی ای او حضرات بھی ہمراہ ہونگے۔
ذرائع کے مطابق 17 سے زائد بڑی انٹرنیشنل امریکی کمپنیوں کے نمائندگان ٹرمپ کے ہمراہ چین کا دورہ کریں گے۔
ماہرین کے مطابق ٹرمپ کا یہ دورہ چین خالصتاً چین اور امریکہ کے درمیان کاروباری معاملات مزید بہتر اور مستحکم کرنے کے لیے ہوگا۔ اس دوران امریکی صدر چین کے صدر شی چن پنگ کے ساتھ خصوصی ملاقات کریں گے اور چین کے دارالحکومت بیجنگ میں اپنے دن گزاریں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ چین کی مختلف کاروباری شخصیات کے ساتھ بھی ملاپ کریں گے اور میٹنگز ہونگی۔
یہ بھی پڑھیں: سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے درمیان بگڑتے ہوئے تعلقات۔ حقیقت کیا ہے؟
دوسری طرف چین میں امریکی صدر کی آمد کے سلسلے میں تیاریاں عروج پر اور زور و شور سے جاری ہیں۔ تمام تر استقبالیہ اور سیکیورٹی انتظامات جلد مکمل کرلیے جائیں گے۔ چینی صدر شی چن پنگ بذات خود بیجنگ ایئرپورٹ پر امریکی وفد کو خوش آمدید کہیں گے۔
صدر ڈونالڈ ٹرمپ کا امریکہ کی بڑی کاروباری شخصیات کو اپنے ساتھ چین لے کر جانا امریکہ اور چین کے درمیان کاروباری معاملات کو مستقبل میں مزید بڑھانے اور مستحکم کرنے کی عکاسی کرتا ہے۔
لیکن جہاں ایک طرف ایران اور امریکہ کی جنگ چل رہی ہے اور چین باضابطہ طور پر ایران کی پشت پر موجود نظر آرہا ہے، ایسے میں امریکی صدر کا چین کا دورہ کئیں سوالات کو بھی جنم دے رہا ہے۔


Post a Comment