اسرائیل گزرنے والے سال 2025 میں دنیائے عالم کے بیشتر ممالک پر حملے کرنے کے بعد 2025 کا سب سے زیادہ حملے کرنے والا ملک بن گیا۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامن نتن یاہو کی قیادت میں اسرائیل نے 6 ممالک کے ساتھ ساتھ ملکوں کے بحری اور ہوائی اڈوں پر بیشتر حملے کیے۔ عالمی ادارے "آرمنڈ کانفلکٹ لوکیشن اینڈ ایونٹ ڈیٹا" کی رپورٹ ملاحظہ فرمائیں۔
عالمی ادارے کی رپورٹ کے مطابق باوثوق ذرائع سے تصدیق کرنے کے بعد؛ اسرائیل نے 5 جنوری 2025 سے لے کر 5 دسمبر 2025 تک کم و بیش 10,631 ملٹری حملے کیے۔ جن کی تصدیق متعدد عالمی اور میڈیا کے اداروں کے ساتھ ساتھ اسرائیلی وزارت خارجہ نے خود بھی کی۔
ان 6 ممالک میں فلسطین، ایران، لبنان، قطر، شام، اور یمن شامل ہیں۔ اس کے علاوہ اسرائیل نے تونس، مالٹا، اور یونان کی بحری سرحد میں بھی نشانے لگائے۔ ان سب سے بڑھ کر غزہ کی طرف آنے والے مشہور بحری بیڑوں "فلوٹیلا" پر بھی اسرائیل نے خوب ہوائی حملے کیے۔
عالمی ادارہ "آرمنڈ کانفلکٹ لوکیشن اینڈ ایونٹ ڈیٹا کیسے کام کرتا ہے؟ آئیے جانتے ہیں۔
یہ ادارہ پوری دنیا میں ہونے والے سیاسی، سماجی، اور بالخصوص ملٹری کاروائیوں کو سب سے پہلے باوثوق عالمی خبر رساں اداروں کی تصدیق کے بعد ایک رپورٹ کی شکل میں نوٹ کرتا رہتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ ادارہ ملکوں میں اندرونی و بیرونی نمائندے بھی رکھتا ہے، جو ہونے والے واقعات کی رپورٹنگ کرتے ہیں۔
اس کے بعد ہر سال کے آخر میں یہ پورے سال میں ہونے والے واقعات کی رپورٹ مرتب کرتا ہے اور تصدیق کے بعد انھیں شائع کیا جاتا ہے۔
اسرائیلی حملوں کی تفصیل ملاحظہ فرمائیں۔
عالمی ادارے کی رپورٹ کے مطابق اسرائیل نے درج ممالک پر کتنے حملے کیے، درج ذیل ہیں؛
فلسطین (غزہ کی پٹی اور مغربی علاقے) - 8332
لبنان - 1653
ایران - 379
شام - 207
یمن - 48
قطر - 1
تونس کی بحری سرحد میں - 2
یونان کی بحری سرحد میں - 1
مندرجہ بالا حملے کرنے کے بعد اسرائیل سب سے زیادہ عالمی قوانین کی خلاف ورزیاں کرنے والا ملک قرار دیا گیا۔ اسرائیلی حملوں کی وجہ سے غزہ اور فلسطین کے مغربی علاقوں میں 25000 سے زائد افراد اپنی جانوں سے گئے، جبکہ 62000 سے زائد افراد زخمی ہوئے۔ بےشک اسرائیل اور فلسطین کے درمیان جنگی ماحول تھا لیکن سیز فائر ہونے کے باوجود بھی اسرائیل حملے کرتا رہا۔
اسرائیل کی جارحیت کے باعث 20 لاکھ سے زائد فلسطینی شہری دیگر ممالک میں ہجرت کرنے پر مجبور ہوئے۔
اسرائیلی حملوں سے فلسطین کے شہروں میں ہونے والی تباہی کا ایک منظر۔
(PC: AP Photo - Adel Han)
فلسطین کے مغربی حصے میں ہونے والی تباہی کا ایک منظر۔
(PC: Ammar Awad - Reuters)
لبنان پر اسرائیلی حملوں کی تفصیل۔
نومبر 2024 میں اسرائیل اور حزب اللّٰہ تنظیم کے درمیان سیز فائر معاہدہ بھی ہوا۔ لیکن اسرائیل نے اس معاہدے کو توڑتے ہوئے 2025 میں لبنان پر 1653 حملے کیے اور حزب اللّٰہ تنظیم کے ٹھکانوں کو تباہ کرنے کا موقف اپنایا۔
لبنان میں اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں ہونے والی تباہی کا ایک منظر۔ رضاکار حملے کے بعد ریسکیو آپریشن کرتے ہوئے۔
(PC: Ibrahim Amro - APF)
ایران پر ہونے والے اسرائیلی حملوں کی تفصیل۔
اسرائیل نے ایران کو وسطی ایشیا میں اپنا سب سے بڑا حریف قرار دیا اور اسے ملکی سالمیت پر خطرہ کہا۔ اس سلسلے میں اسرائیل نے ایران پر خوب فضائی نشانے داغے اور مختلف ایرانی شہروں کو نقصان پہنچایا۔ سب سے بڑے کر اسرائیل اور ایران کے درمیان 12 دن تک باقاعدہ جنگ لگی رہی جس میں ایران نے بھرپور جوابی حملے کیے۔ اس دوران اسرائیل نے امریکی کی بھرپور حمایت کے ساتھ ایران کے ایٹمی منصوبے کو بھی تباہ کرنے کا دعویٰ بھی کیا۔
ایران کے دارالحکومت تہران پر اسرائیلی میزائل حملے کے بعد اٹھتا ہوا دھواں۔
(PC: AP Photo)
اسرائیل کی جانب سے شام پر حملوں کی تفصیل۔
اسرائیل نے شام پر حملے کرتے ہوئے یہ موقف اپنا کہ شام میں ایران نے اپنے ملٹری اڈے قائم کر رکھے ہیں جہاں سے ایران اسرائیل کو نشانہ بنانے کی نیت رکھتا ہے۔ اس کے علاوہ 2024 کے آخر میں شام میں اسد حکومت کا تختہ الٹنے کے بعد شدت پسند تنظیمیں متحرک ہوچکی ہیں، جن کا خاتمہ وقت کی ضرورت ہے؛ یہ موقف اسرائیل نے اختیار کرکے شام پر حملے کیے۔ ان حملوں میں اسرائیل نے شامی دارالحکومت دمشق کو بالخصوص نشانہ بنایا۔
سب سے بڑھ کر 16 جولائی 2025 کو اسرائیل نے فوجی کاروائی کرتے ہوئے شام کے دارالحکومت میں قائم شامی وزارت دفاع اور صدارتی محل بھی قبضے میں لے لیا۔
امریکہ کے مطابق موجودہ شامی حکومت کے سربراہان امریکی صدر کے ساتھ مکمل رابطے میں ہیں اور تعاون کررہے ہیں۔ اس لیے امریکہ نے اسرائیل کو شام پر مزید حملے کرنے سے روک دیا۔
یمن میں ہونے والے اسرائیلی حملوں کی تفصیل۔
اسرائیل نے حوثی تحریک کو نشانہ بنانے کی غرض سے 2025 میں یمن کے مختلف علاقوں پر حملے کیے۔ یاد رہے کہ حوثی تحریک یمن میں ایک سیاسی و عسکری تنظیم و تحریک ہے جو انصار اللّٰہ کے نام سے مشہور ہے۔
اسرائیل نے یمن کے دارالحکومت پر حملہ کرتے ہوئے ایک اجتماع کے دوران حوثی تحریک کے سربراہ اور متعدد عمائدین کو بھی قتل کردیا۔
اس کے بعد مئی 2025 میں حوثی باغیوں اور امریکہ کے درمیان ایک میٹنگ میں سیز فائر معاہدہ ہوا۔ لیکن اس کے باوجود بھی اسرائیل حوثی کنٹرول کے حامل علاقوں پر حملہ کرنے سے باز نہ آیا۔
حوثی کنٹرول کے حامل پاور سٹیشن پر اسرائیلی حملے کی ایک جھلک۔
(PC: AP Photo)
قطر پر اسرائیلی حملے کی تفصیل۔
اسرائیل نے 9 ستمبر 2025 کو قطری دارالحکومت دوحہ پر فضائی حملہ کیا۔ یہ حملہ تب کیا گیا جب حماس تنظیم کے سربراہان قطر میں امریکہ کے کہنے پر مذاکرات کرنے کے لیے موجود تھے۔ اس حملے کے دوران قطری وزارت خارجہ کی بلڈنگ سمیت متعدد شہری علاقے بھی متاثر ہوئے۔ اس حملے میں حماس کے سربراہان سمیت متعدد قطری سیکیورٹی آفیسرز جان سے گئے۔
اس کے بعد امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے قطر کو بیرونی حملوں سے بچانے کی بھرپور یقین دہانی کروائی اور اسرائیل کو مزید قطر پر کسی بھی حملے سے روک دیا۔
قطر میں اسرائیلی حملے کے بعد ہونے والی تباہ بلڈنگ۔ حماس سربراہان اسی لوکیشن پر موجود تھے۔
(PC: Abu Mustafa - Reuters)
عالمی پانیوں پر اسرائیلی حملوں کی تفصیل۔
غزہ میں ہونے والی غذائی قلت کو پورا کرنے کے لیے مختلف ممالک سے لوگ ایک بحری بیڑے کی شکل میں غزہ کی طرف بڑھے۔ جنھیں روکنے کے لیے اسرائیل نے متعدد میزائل اور ڈرون اس بحری بیڑے پر داغے اور اسرائیل اسے روکنے میں کامیاب بھی ہوگیا۔
ستمبر 2025 میں چلنے والا یہ بحری بیڑہ جب مالٹا کی بحری سرحد میں تھا تو اسرائیل اس پر پہلا حملہ کیا جس کے نتیجے میں متعدد افراد شدید زخمی ہونے۔ اس کے بعد تونس کے پورٹ کی قریب اسرائیل نے دوسری دفعہ اس بحری بیڑے کو ڈرون حملہ کرکے روکنے کی کوشش کی۔ اس کے بعد یونانی سرحد میں اسرائیل نے اس بیڑے پر فائنل حملہ کرکے اس بحری بیڑے فلوٹیلا کو بالآخر روک لیا اور تمام سوار افراد کو گرفتار کرلیا گیا۔
غزہ کی طرف بڑھنے والے رضاکار بحری بیڑے گلوبل فلوٹیلا کا سپین کی سرحد سے گزرتے ہوئے ایک منظر۔
(PC: Reuters)
عالمی خبر رساں ادارے الجزیرہ کی اس متعلق رپورٹ پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔
آزاد کشمیر سمیت پاکستان و عالمی دنیا کے سیاسی و سماجی معاملات سے باخبر رہنے کے لیے ہمیں فیسبک پر فالو کریں اور ہماری ویبسائٹ کے ساتھ جڑے رہیں۔ شکریہ







