چالیس سال قبل قائم ہونے والی آزاد جموں و کشمیر یونیورسٹی مظفرآباد تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے۔ اخراجات پورے کرنے کے لیے طلباء کی فیسوں میں ہوشربا اضافہ کردیا۔

آزاد جموں و کشمیر یونیورسٹی مظفرآباد آئے روز کسی نہ کسی مالی سکینڈل کا شکار رہتی ہے جس کی وجہ سے یونیورسٹی اس وقت کروڑوں کے خسارے میں ہے۔ اس خسارے کو پورا کرنے کے لیے آئے روز یونیورسٹی طلباء کی فیسوں میں اضافہ کرتی جارہی ہے۔
یونیورسٹی سرکاری ہونے کے باوجود ہمیں فیسوں میں رعایت اور دیگر سہولیات دینے سے قاصر ہے۔ ایک طالبعلم کا بیان۔
چالیس سال قبل قائم ہونے والا یہ سرکاری ادارہ کچھ سال قبل بہترین انداز میں کام کررہا ہے۔ اس یونیورسٹی کا شمار پاکستان کی بہترین یونیورسٹیوں میں ہوتا تھا اور اس کی رینکنگ 16 تھی۔ لیکن من پسند سیاسی تعیناتیوں کے باعث اس یونیورسٹی کا تعلیمی معیار کہیں گہرائیوں میں گر چکا ہے۔ اگر اسی طرح یونیورسٹی کے وائس چانسلر صاحبان سیاسی طور پر بدلتے رہے اور اس کا مالی بحران اسی شدت سے رہا تو یہ ادارہ جلد تباہی کا شکار ہوکر بند ہوجائے گا۔
آزاد کشمیر حکومت اپنی تعلیمی پالیسیوں کے بارے میں بہت غفلت برت رہی ہے۔ پرانے تعلیمی اداروں کو سنوارنے کے بجائے مزید تعلیمی ادارے بالخصوص یونیورسٹیاں قائم کرکے تعلیمی بحران پیدا کیا جارہا ہے۔ سباق وزیراعظم انوار الحق جب برسرِ اقتدار آئے تو انھوں نے اپنے حلقہ انتخاب میں سب سے پہلے یونیورسٹی آف بھمبر کی بنیاد رکھی۔ بلڈنگ کی عدم دستیابی کے باوجود اس ادارے کو قائم کیا گیا اور زبردستی چلایا گیا۔ اس کے بعد جب اب فیصل ممتاز راٹھور وزیراعظم بنے تو انھوں نے بھی اپنے حلقے میں یونیورسٹی آف حویلی قائم کر ڈالی۔ ماہرین کے مطابق آئندہ کچھ سالوں میں ریاست بھر میں تعلیمی نظام مفلوج ہوکر بحران کی شکل اختیار کر جائے گا۔