میرپور: شہریوں کو رقم دگنی کرنے کا لالچ دے کر کمپنی کروڑوں ہڑپ کرگئی | AJK Desk

 میرپور آزاد کشمیر - ایک نجی ادارے کے بارے میں ایک انتہائی تشویشناک اور حیران کن انکشافات سامنے آئیں ہیں۔ جہاں ایک سمیعہ ٹریڈرز نامی نجی کمپنی لوگوں کو روزگار اور انویسٹمنٹ سرمایہ کاری کا لالچ دے کر کروڑوں روپے ہڑپ کرچکی ہے۔ تفصیلات کیا ہیں؟ اےجےکے ڈیسک کی رپورٹ ملاحظہ کریں۔ 

میرپور: شہریوں کو رقم دگنی کرنے کا لالچ دے کر کمپنی کروڑوں ہڑپ کرگئی | AJK Desk

میرپور ازاد کشمیر میں سمیعہ ٹریڈرز کے نام سے چلنے والی نجی کمپنی جو کہ ایک غیر رجسٹرڈ کمپنی ہے، گزشتہ کافی عرصہ سے میرپور میں دفتر قائم کرکے کام کررہی ہے۔ یہ کمپنی لوگوں کو روزگار دینے اور سرمایہ کاری کے بعد منافع دینے کا دعویٰ کرتی ہے۔ اس طریقے سے وہ لوگوں سے پیسہ اکٹھا کرتی ہے اور پھر اس پر ماہانہ یا سالانہ پرافٹ دیتی ہے۔ اس سمیعہ ٹریڈرز نامی غیر رجسٹرڈ کمپنی کے بارے میں ایس اسی پی پولیس میرپور کے پاس متعدد درخواستیں موصول ہوئیں جس میں شہریوں نے یہ دعویٰ کیا کہ اس کمپنی نے ہم سے سرمایہ کاری کا جھانسہ دے کر پیسے لیے اور اب وہ ہمیں واپس نہیں دے رہی۔ اس لیے اس کے خلاف قانونی کاروائی کی جائے اور ہماری رقوم بازیاب کروائی جائیں۔ 

ایک درخواست گزار خاتون جو ایس ایس پی میرپور کے سامنے پیش ہوئیں اور انھوں نے درخوست کی ہے کہ اس کمپنی میں انھوں نے رقم ڈبل کرنے کی لالچ میں رقم سمیعہ ٹریڈرز کو جمع کروائی۔ لیکن اب آٹھ ماہ گزر چکے ہیں، نہ میرے پیسے ڈبل ہوئے اور نہ ہی وہ میری اصل رقم واپس کررہے ہیں۔ اس کے علاوہ متعدد درخواستیں اور بھی موصول ہوئیں۔

تحقیقات کے بعد ذرائع سے معلوم ہوا کہ یہ کمپنی بےشمار ایسے لوگوں سے پیسے وصول کرچکی ہے جو اب واپس نہیں دیے جارہے۔ جو تفصیل سامنے آئی اس کے مطابق اس کمپنی نے عذرا بی بی سے 19 لاکھ روپے، اقراء ہارون سے 36 لاکھ روپے، ارم سلیم سے 9 لاکھ 40 ہزار روپے، ماریہ کوثر سے 22 لاکھ روپے، جبکہ ایک اور خاتون سے 1.5 لاکھ روپے لیے۔ صرف چار خاندانوں سے اس غیر رجسٹرڈ کمپنی نے ایک کروڑ سے زائد رقم وصول کی، جبکہ خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے اس کمپنی نے ایسے سینکڑوں افراد سے پیسے بٹورے ہیں جن میں سے اکثریت سادہ لوح گھریلو عورتوں کی ہے۔ 

میرپور پولیس نے جب اس کمپنی سمیعہ ٹریڈرز کے بارے میں چھان بین کی تو سامنے آیا کہ یہ کمپنی کسی بھی سرکاری و نجی باوثوق ادارے سے رجسٹرڈ نہیں۔ اور نہ ہی اس کا کوئی ریکارڈ سیکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن پاکستان (SECP) کے پاس موجود ہے۔ اس کے باوجود یہ کمپنی کھلے عام دفتر قائم کرکے لوگوں سے کروڑوں روپے بٹورتی رہی۔ 

سمیعہ ٹریڈرز کی مالکن کا نام ریحانہ کوثر سامنے آیا ہے جو میرپور کی ہی رہائشی ہے۔ متاثرین نے اعلیٰ حکام سے اپیل کی ہے کہ اس عورت کو گرفتار کرکے تحقیقات اور تفتیش کی جائے تاکہ معلوم ہوسکے کہ اس نے اور کرنے لوگوں سے پیسے وصول کیے اور فراڈ کیا۔ اس کے علاوہ متاثرہ خواتین نے ایس ایس پی میرپور سے یہ بھی استدعا کی کہ ان کے پیسے بازیاب کروائیں گے اور انھیں انصاف فراہم کیا جائے۔ 

اس کیس کی مزید معلومات ابھی تک سامنے نہ آسکیں۔ لیکن جلد اس کیس کی مکمل تفصیل اےجےکے ڈیسک کے ذریعے میڈیا کی زینت بنائی جائے گی۔

Post a Comment

Previous Post Next Post