25-09-2026 - AJK Desk - Profiles
حادثے سے شروع ہونے والا سیاسی سفر، صدرِ ریاست کے منصب تک۔ ڈاکٹر محمد نجیب نقی خان کی سیاست میں آمد کسی باقاعدہ سیاسی منصوبے کا نتیجہ نہیں تھی۔ وہ طب کے شعبے میں اپنا مستقبل بنانے کی راہ پر گامزن تھے اور میو ہسپتال لاہور میں ہاؤس جاب کر رہے تھے کہ 1990 میں ایک المناک حادثے نے ان کی زندگی کا رخ بدل دیا۔
ان کے والد، ریٹائرڈ کرنل محمد نقی خان، جو آزاد کشمیر کی سیاست میں فعال تھے اور وزیرِ صحت کے منصب پر بھی فائز رہ چکے تھے، 1990 کے عام انتخابات کی انتخابی مہم کے دوران ایک ٹریفک حادثے میں انتقال کر گئے۔ والد کی وفات کے بعد خاندان کے بزرگوں نے ڈاکٹر نجیب نقی کو سیاسی میدان میں آنے پر آمادہ کیا۔ یوں ایک نوجوان ڈاکٹر نے عملی سیاست کا سفر شروع کیا، جو تین دہائیوں سے زائد عرصے بعد آزاد کشمیر کے سب سے بڑے آئینی منصب تک جا پہنچا۔
24 ستمبر 2026 کو آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی میں ہونے والے صدارتی انتخاب میں ڈاکٹر محمد نجیب نقی نے 32 ووٹ حاصل کرکے پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار چوہدری لطیف اکبر کے مقابلے میں کامیابی حاصل کی اور آزاد کشمیر کے 25ویں صدرِ ریاست منتخب ہوئے۔
ڈاکٹر محمد نجیب نقی کون ہیں؟
ڈاکٹر محمد نجیب نقی خان 19 جنوری 1964 کو راولپنڈی میں پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق پونچھ ڈویژن کے علاقے پلندری، ضلع سدھنوتی سے ہے۔
انہوں نے اپنے بچپن اور جوانی کا بڑا حصہ لاہور میں گزارا۔ ابتدائی تعلیم کے بعد ایچی سن کالج لاہور سے تعلیم حاصل کی اور بعد ازاں کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج لاہور سے ایم بی بی ایس کی ڈگری مکمل کی۔
سیاست میں آنے سے قبل ان کا رجحان طب کے شعبے کی جانب تھا، تاہم والد کی اچانک وفات کے بعد حالات نے انہیں عملی سیاست کی طرف موڑ دیا۔
ایک سیاسی اور سماجی خاندان کی تیسری نسل
ڈاکٹر نجیب نقی کا تعلق پونچھ کے ایک ایسے خاندان سے ہے جس کی سیاسی، سماجی اور تعلیمی سرگرمیوں کی تاریخ کئی دہائیوں پر محیط ہے۔
ان کے دادا کرنل خان محمد خان کو ’’بابائے پونچھ‘‘ کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے۔ وہ برطانوی ہندوستانی فوج میں خدمات انجام دینے کے بعد سماجی اور سیاسی سرگرمیوں میں سرگرم ہوئے۔
1934 میں ریاست جموں و کشمیر میں پرجا سبھا کے قیام کے بعد کرنل خان محمد خان اس کے رکن منتخب ہوئے اور 1946 تک اس ایوان سے وابستہ رہے۔
کرنل خان محمد خان کی خدمات کا ایک اہم پہلو پونچھ میں تعلیم کا فروغ تھا۔
انہوں نے 1934 میں سدھن ایجوکیشنل کانفرنس قائم کی، جس کا مقصد علاقے میں تعلیمی سرگرمیوں کو فروغ دینا اور ضرورت مند طلبہ کی معاونت کرنا تھا۔
اسی سلسلے میں انہوں نے ’’مٹھی بھر آٹا‘‘ کے نام سے ایک منفرد فلاحی اسکیم شروع کی۔ اس کے تحت گھرانوں سے تھوڑا تھوڑا آٹا جمع کیا جاتا، اسے فروخت کرکے حاصل ہونے والی رقم تعلیمی اور فلاحی سرگرمیوں پر خرچ کی جاتی تھی۔
کرنل خان محمد خان کے سیاسی سفر کا ایک نمایاں پہلو یہ بھی بیان کیا جاتا ہے کہ انہوں نے بعد کی قیادت کے لیے راستہ ہموار کیا۔ تاریخی حوالوں کے مطابق انہوں نے 1946 میں اپنی نشست سے دستبردار ہوکر بیرسٹر سردار محمد ابراہیم خان کو انتخاب لڑنے کی ترغیب دی، جو بعد ازاں آزاد کشمیر کے پہلے صدر بنے۔
1947 میں کرنل خان محمد خان پونچھ کی جنگ کے دوران وار کونسل کے چیئرمین بھی رہے اور تحریکِ آزادی کے دوران ان کا کردار بیان کیا جاتا ہے۔
دوسری نسل: کرنل محمد نقی خان
کرنل خان محمد خان کے بعد ان کے صاحبزادے کرنل (ر) محمد نقی خان نے بھی سیاست کا رخ اختیار کیا۔
وہ آزاد کشمیر کی قانون ساز اسمبلی کے رکن رہے اور حکومت میں وزیرِ صحت و خوراک سمیت اہم ذمہ داریاں انجام دیں۔
1990 کے عام انتخابات کی انتخابی مہم کے دوران پلندری کے قریب ایک سڑک حادثے میں ان کا انتقال ہوگیا۔ اس وقت ان کے صاحبزادے ڈاکٹر محمد نجیب نقی طب کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد ہاؤس جاب کر رہے تھے۔
والد کی وفات کے بعد ڈاکٹر نجیب نقی نے سیاسی میدان میں قدم رکھا اور 1991 کے انتخابات میں پہلی مرتبہ آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔
ڈاکٹر محمد نجیب نقی خان کا 1991 سے لے کر 2026 تک کا سیاسی سفر
ڈاکٹر نجیب نقی کا باقاعدہ پارلیمانی سفر 1991 میں شروع ہوا۔ وہ پہلی مرتبہ آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے اور 1991 سے 1996 تک پارلیمانی سیکریٹری برائے صحت و منصوبہ بندی و ترقیات کے طور پر بھی ذمہ داریاں انجام دیں۔
1996 کے انتخابات میں ڈاکٹر نجیب نقی ایک مرتبہ پھر قانون ساز اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ اس دور میں انہوں نے اپوزیشن رکن کی حیثیت سے کام کیا اور پبلک اکاؤنٹس کمیٹی سے بھی وابستہ رہے۔ اسی سیاسی دور میں سدھنوتی کو ضلع کا درجہ دلانے کے عمل میں ان کا کردار واضح رہا۔
2001 میں ڈاکٹر نجیب نقی آزاد جموں و کشمیر کونسل کے رکن منتخب ہوئے اور 2006 تک اس حیثیت سے خدمات انجام دیں۔
2006 کے انتخابات میں ڈاکٹر نجیب نقی ایک مرتبہ پھر قانون ساز اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ اس دور میں انہیں حکومت میں مختلف اہم محکموں کی ذمہ داریاں دی گئیں، جن میں صحت، بہبودِ آبادی، تعلیم اور انفارمیشن ٹیکنالوجی شامل تھے۔
2011 کے عام انتخابات میں ڈاکٹر نجیب نقی دوبارہ قانون ساز اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ 2011 سے 2016 تک وہ اسمبلی میں رہے اور اس دوران پبلک اکاؤنٹس کمیٹی سے بھی وابستہ رہے۔
2016 کے عام انتخابات میں ڈاکٹر نجیب نقی نے مسلم لیگ (ن) کے ٹکٹ پر حلقہ ایل اے 21 سدھنوتی پونچھ سے کامیابی حاصل کی۔ انہوں نے 25 ہزار 732 ووٹ حاصل کیے۔
2016 سے 2021 تک وہ آزاد کشمیر حکومت میں وزیرِ صحت اور وزیرِ خزانہ رہے، جبکہ منصوبہ بندی و ترقیات کا قلمدان بھی ان کے پاس رہا۔
2021 کے عام انتخابات میں ڈاکٹر محمد نجیب نقی دوبارہ میدان میں اترے، تاہم اس مرتبہ انہیں کامیابی حاصل نہ ہوسکی۔ حلقہ ایل اے 23 پونچھ و سدھنوتی 6 میں تحریکِ انصاف کے سردار محمد حسین خان نے کامیابی حاصل کی جبکہ ڈاکٹر نجیب نقی 19,606 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔ اتخابی شکست کے باوجود وہ مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر کی سیاست میں سرگرم رہے۔
2026: دوبارہ انتخابی میدان اور صدارتی امیدوار
2026 کے آزاد کشمیر انتخابات میں مسلم لیگ (ن) نے ڈاکٹر نجیب نقی کو پلندری سے امیدوار نامزد کیا۔ تاہم موجودہ سیاسی حالات اور بعض حلقوں میں انتخابی عمل کی صورتحال کے باعث ان کے حلقے میں انتخاب مکمل نہ ہوسکا، جبکہ دیگر حلقوں کے نتائج کے بعد حکومت سازی کا مرحلہ آگے بڑھا۔
اسی سیاسی صورتحال کے دوران مسلم لیگ (ن) کی مرکزی قیادت نے ڈاکٹر محمد نجیب نقی کو صدرِ آزاد جموں و کشمیر کے منصب کے لیے امیدوار نامزد کیا۔
24 ستمبر 2026 کو آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی میں صدرِ ریاست کا انتخاب ہوا۔
انتخاب میں ڈاکٹر محمد نجیب نقی نے 32 ووٹ حاصل کیے، جبکہ ان کے مدمقابل پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار چوہدری لطیف اکبر نے 13 ووٹ حاصل کیے۔ ایک رکن غیر حاضر رہا۔
ڈاکٹر نجیب نقی یوں آزاد جموں و کشمیر کے 25ویں صدرِ ریاست منتخب ہوگئے۔ انہیں مسلم لیگ (ن) کے 31 ارکان کے علاوہ ایک اتحادی رکن کا ووٹ بھی ملا۔
تین نسلوں سے جاری سیاسی سفر کا نیا مرحلہ
ڈاکٹر محمد نجیب نقی کا سیاسی سفر ایک ایسے خاندان سے جڑا ہے جس کی عوامی زندگی میں تین نسلوں کی موجودگی دکھائی دیتی ہے۔
ان کے دادا کرنل خان محمد خان نے پونچھ میں سیاست، تعلیم اور سماجی بہبود کے میدان میں کردار ادا کیا، ان کے والد کرنل محمد نقی خان نے آزاد کشمیر کی پارلیمانی سیاست اور وزارت تک سفر کیا، جبکہ ڈاکٹر نجیب نقی نے تین دہائیوں سے زائد عرصے پر محیط سیاسی سفر میں قانون ساز اسمبلی، کشمیر کونسل، اپوزیشن اور مختلف وزارتوں میں ذمہ داریاں انجام دینے کے بعد اب ریاست کے اعلیٰ ترین آئینی منصب کی ذمہ داری سنبھال لی ہے۔
ایک نوجوان ڈاکٹر سے عملی سیاست کے آغاز اور پھر مسلسل پارلیمانی و حکومتی سفر کے بعد 24 ستمبر 2026 کو ان کا سفر ایوانِ صدر تک پہنچا۔ اب ان کے سیاسی سفر کا ایک نیا باب بطور صدرِ آزاد جموں و کشمیر شروع ہوچکا ہے۔



0 Comments