اسلام آباد: مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر کے مرکزی رہنماؤں شاہ غلام قادر اور راجہ فاروق حیدر خان نے کہا ہے کہ آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کی موجودہ مدت 3 اگست کو مکمل ہو رہی ہے، اس لیے الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کردہ انتخابی شیڈول بالکل بروقت اور آئین کے مطابق ہے۔ پیپلز پارٹی کی جانب سے نیا الیکشن شیڈول جاری کرنے کا مطالبہ غیر قانونی اور غیر آئینی ہے۔
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے شاہ غلام قادر نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی آزاد کشمیر قیادت نے اپنے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کو بھی غلط معلومات فراہم کی ہیں۔ مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر آئین کی پاسدار جماعت ہے اور آئین کی کتاب کے ساتھ کھڑی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ انتخابات کسی صورت ملتوی نہیں ہونے دیے جائیں گے اور جاری شدہ شیڈول کے مطابق ہی منعقد ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر میں موجودہ امن و امان کی صورتحال تشویشناک ہے اور ایکشن کمیٹی کے دھرنوں کے باعث اشیائے خوردونوش اور ادویات کی قلت پیدا ہونے کا خدشہ بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے تاجر برادری سے اپیل کی کہ بازار اور دکانیں کھول کر معمولاتِ زندگی کی بحالی میں اپنا کردار ادا کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ احتجاج اور مطالبات اپنی جگہ اہم ہیں، تاہم عوامی زندگی کو مفلوج نہیں ہونا چاہیے۔
شاہ غلام قادر نے کشمیر کے داخلی راستوں پر اشیائے ضروریہ لے جانے والی مال بردار گاڑیوں کو پنجاب پولیس کی جانب سے روکے جانے کی اطلاعات کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے زیادتی قرار دیا اور فوری طور پر یہ رکاوٹیں ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ پیپلز پارٹی انتخابات سے فرار حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر پیپلز پارٹی عوامی حمایت رکھتی ہے تو سیاسی میدان میں آکر مقابلہ کرے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ پاکستان میں مارشل لا کے ادوار میں بھی 1985 کے بعد آزاد کشمیر کے انتخابات ملتوی نہیں ہوئے، حتیٰ کہ 2005 کے تباہ کن زلزلے کے بعد بھی انتخابات مقررہ وقت پر منعقد ہوئے تھے۔
ایک سوال کے جواب میں شاہ غلام قادر نے کہا کہ دنیا بھر میں جنگی حالات میں بھی انتخابات کا انعقاد کیا جاتا ہے، اس لیے آزاد کشمیر میں بھی انتخابات ہر صورت مقررہ وقت پر ہونے چاہئیں۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ احتجاجی صورتحال کے حوالے سے حکومتِ آزاد کشمیر نے جو نوٹیفکیشنز جاری کیے، ایکشن کمیٹی کو کالعدم قرار دیا، دہشت گردی اور غداری کے الزامات لگائے اور مظاہرین کے خلاف مقدمات درج کیے، ان تمام اقدامات کی ذمہ داری پیپلز پارٹی حکومت پر عائد ہوتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اب حکومت کو اپنے فیصلوں کی ذمہ داری قبول کرنی چاہیے اور دوسروں پر الزام تراشی سے گریز کرنا چاہیے۔
شاہ غلام قادر نے یاسین ملک کی اہلیہ مشال ملک کے حالیہ بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کی قیادت کے خلاف استعمال کیے گئے الفاظ نامناسب ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مشال ملک کو پارٹی اور حکومتی معاملات میں مداخلت کا حق حاصل نہیں، تاہم مسلم لیگ (ن) نے ہمیشہ یاسین ملک اور ان کے اہل خانہ کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کیا ہے اور آئندہ بھی یہ حمایت جاری رہے گی۔
اس موقع پر سابق وزیراعظم راجہ فاروق حیدر خان نے آزاد کشمیر کے آئین کی کتاب لہراتے ہوئے کہا کہ انتخابات ہر صورت آئین کے مطابق اور مقررہ وقت پر ہونے چاہئیں۔ انہوں نے ایکشن کمیٹی کے مظاہرین سے بھی اپیل کی کہ وہ اپنے مطالبات آئینی اور قانونی دائرے میں رہتے ہوئے منوائیں۔
راجہ فاروق حیدر نے اس بات کو دہرایا کہ ایکشن کمیٹی کو کالعدم قرار دینے اور اس حوالے سے نوٹیفکیشنز جاری کرنے کا فیصلہ پیپلز پارٹی حکومت کا اپنا فیصلہ تھا، جس میں نہ مسلم لیگ (ن) سے مشاورت کی گئی اور نہ ہی دیگر سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لیا گیا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت اپنے اقدامات کی مکمل سیاسی اور انتظامی ذمہ داری قبول کرے۔

0 Comments