عوامی نیشنل پارٹی کے صدر اور سینیٹر ایمل ولی خان نے آزاد کشمیر میں جاری ایکشن کمیٹی کے مظاہروں کے تناظر میں کشمیری عوام کی حمایت کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کشمیری اپنے حقوق کے حصول کا ہنر جانتے ہیں اور پورے پاکستان کیلئے ایک مثال ہیں۔
اپنے بیان میں سینیٹر ایمل ولی خان نے کہا کہ وہ ہمیشہ اپنی قوموں کو کشمیری قوم جیسا بننے کا مشورہ دیتے ہیں کیونکہ کشمیری عوام اپنے حقوق کیلئے جدوجہد کرنا جانتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آج آزاد کشمیر میں بجلی پاکستان کے دیگر علاقوں کی نسبت سستی ہے کیونکہ کشمیری عوام نے اپنے حقوق کیلئے آواز بلند کی اور کامیاب جدوجہد کے ذریعے اپنے مطالبات منوائے۔
ایمل ولی خان نے کہا کہ وہ شروع سے اس بات کے حامی رہے ہیں کہ مسئلہ کشمیر کا حل بندوق کے ذریعے نہیں بلکہ جمہوری اور سیاسی مذاکرات کے ذریعے نکالا جانا چاہیے۔ انہوں نے موجودہ صورتحال کے حل کیلئے اعلیٰ جمہوری شخصیات پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دینے کی تجویز پیش کرتے ہوئے کہا کہ ایسی کمیٹی آزاد کشمیر جا کر عوام سے براہ راست بات چیت کرے، ان کے مسائل سنے اور ان کے زخموں پر مرہم رکھنے کا کردار ادا کرے۔
انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے ہمارے ملک میں اکثر اہم فیصلے چند افراد بند کمروں میں بیٹھ کر کرتے ہیں جس کے نتیجے میں بعد ازاں حالات مزید خراب ہو جاتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ آزاد کشمیر کی موجودہ صورتحال میں بھی یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ حکومت عوامی مسائل کے حل کے بجائے آئندہ انتخابات میں سیاسی فائدے کو مدنظر رکھ رہی ہے۔
ابھی کشمیر میں جو موجودہ صورتحال ہے، اس میں حکومت یہ دیکھ رہی ہے کہ کشمیری عوام کو فائدہ پہنچایا جائے یا پیپلز پارٹی کو۔ (ایمل ولی خان)
عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ نے زور دیا کہ آزاد کشمیر کے معاملات کو سیاسی مفادات کے بجائے عوامی خواہشات اور جمہوری اصولوں کے مطابق حل کیا جانا چاہیے تاکہ خطے میں پائیدار امن اور استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔

0 Comments