ایران اور امریکہ کے درمیان امن معاہدہ طے، 19 جون کو جنیوا میں دستخط ہوں گے | AJK Desk

اسلام آباد: ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی اور امن معاہدے پر اتفاق ہو گیا ہے، جبکہ معاہدے پر دستخط کی باقاعدہ تقریب 19 جون 2026 کو جنیوا، سوئٹزرلینڈ میں منعقد ہوگی۔

ایران اور امریکہ کے درمیان امن معاہدہ طے، 19 جون کو جنیوا میں دستخط ہوں گے | AJK Desk

وزیراعظم پاکستان شہباز شریف کے مطابق معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے کردار ادا کرنے والے ممالک رواں ہفتے اہم ملاقاتیں کریں گے جبکہ عمل درآمد سے قبل تکنیکی امور پر بھی مشاورت کی جائے گی۔ وزیراعظم نے بتایا کہ معاہدے میں لبنان سمیت خطے کے تمام محاذوں پر لڑائیوں کا خاتمہ اور کشیدگی میں کمی شامل ہے۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے بھی سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں ایران کے ساتھ امن معاہدے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ "سب کو مبارک ہو، ایران کے ساتھ امن معاہدہ طے پا گیا ہے۔ یہ عظیم معاہدہ پورے خطے میں امن، استحکام اور سلامتی لے کر آئے گا۔"

ٹرمپ کے مطابق آبنائے ہرمز کو ٹول فری کھول دیا گیا ہے جبکہ امریکی ناکہ بندی بھی ختم کر دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ معاہدے پر دستخط کے بعد تیل کی باقاعدہ نقل و حمل دوبارہ شروع ہو جائے گی۔

ادھر ایران کے نائب وزیر خارجہ نے بھی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے امریکہ کے ساتھ امن معاہدے کی تصدیق کی۔ ان کا کہنا تھا کہ معاہدے کی مکمل تفصیلات باضابطہ دستخط کے بعد عوام کے سامنے لائی جائیں گی جبکہ جمعہ سے معاہدے پر ابتدائی عمل درآمد شروع کر دیا جائے گا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ حتمی اور جامع معاہدے تک پہنچنے کے لیے 60 روزہ مذاکراتی عمل کا نیا مرحلہ بھی شروع کیا جائے گا۔

وزیر داخلہ پاکستان سید محسن نقوی نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے امن کے قیام کے لیے مؤثر سفارتی کردار ادا کر کے تاریخ رقم کی ہے۔

قطر کے وزیراعظم نے بھی امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والے امن معاہدے کا خیر مقدم کیا اور ثالثی کے عمل میں شریک تمام ممالک کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے بالخصوص پاکستان کی امن کوششوں اور سفارتی کردار کو سراہتے ہوئے اسے قابلِ تحسین قرار دیا۔

برطانیہ کے وزیراعظم نے بھی معاہدے کا خیر مقدم کرتے ہوئے دونوں ممالک کو مبارکباد دی اور امید ظاہر کی کہ یہ پیش رفت مشرق وسطیٰ میں پائیدار امن اور استحکام کا باعث بنے گی۔

سیاسی و سفارتی حلقوں کے مطابق مجوزہ معاہدہ خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور عالمی تجارت کی بحالی کے حوالے سے ایک اہم سنگِ میل ثابت ہو سکتا ہے۔

Post a Comment

0 Comments